Friday, November 9, 2012

امیر المؤمنین ‌امام و‌خلیفۂ ثانی سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی کرامات

حضر بسربن ارطاۃ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آیا ہے کہ رومیوں کے ساتھ جہاد کے دوران ان کے لشکر کے ساقہ [ پچھلے حصے ] کو برابر نقصان پہنچتا رہا، حضرت بسر ان کے لیے کمین گاہیں بناتے مگر رومی چھپ کر ان پر حملہ کر دیتے ، حضرت بسر رضی اللہ عنہ نے یہ صورت حال دیکھ کر سو آدمی اپنے ساتھ لئے اور لشکر سے پیچھے ایک پہاڑی کے دامن میں چھپ گئے وہاں سے انہوں نے ایک جگہ تیس ترکی گھوڑےبندھے ہوئے تھے اور ان کے ایک جانب گرجاگھر تھا اس گرجے میں گھوڑوں کے سوار تھے۔ حضرت بسر نے اپنا گھوڑا قریب ہی باندھا اور خود اکیلے گرجا گھر میں داخل ہو ئے اور اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ رومی دروازے کے بند ہونے سے حیران ہوئے اور اپنے نیزوں کی طرف بھاگے مگر نیزے اٹھانے سے پہلے ہی ان میں سے تین زمین پر تڑپ رہے تھے ادھر حضرت بسر رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے جب انہیں نہ پایا تو ان کی تلاش میں نکلے۔ گرجے کے پاس انہوں نے آپ کے گھوڑے کو پہچان لیا اور انہیں گرچے کے اندر سے شور بھی سنائی دیا تو انہوں نے اس میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر دروازہ بند تھا چنانچہ انہوں نے چھت کو توڑ کر جگہ بنائی اور اندر گھس گئے انہوں نے دیکھا کہ حضرت بسر رضی اللہ عنہ اپنے بائیں ہاتھ سے اپنی آنتیں سنبھالی ہوئی ہیں اور دائیں ہاتھ میں تلوار لے کر لڑ رہے ہیں جب ان کے ساتھی گرجا گھر پر قابض ہوگئے تو حضرت بسر بے ہوش ہو کر گرپڑے اس لڑائی میں کئی رومی مارے گئے اور کئی قید ہوئے ان قیدیوں نے حضرت بسر رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ ، انہوں نے کہا یہ بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ ہیں کہنے لگے کہ اللہ کی قسم کسی ماں نے اس جیسا نہیں جنا ہوگا۔ ان کے ساتھیوں نے ان کی آنتوں کو ان کے پیٹ میں واپس رکھ دیا اور اپنے عمامے پھاڑ کر ان کی پٹی کی اور انہیں اٹھا کر لے آئے علاج کے بعد اللہ تعالی نے انہیں تندرستی عطاع فرما دی ( رواہ الحافظ ابوالحاج المزی )

No comments:

Post a Comment