Friday, November 9, 2012
امیر المؤمنین امام وخلیفۂ ثانی سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی کرامات
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ رومیوں کے مقابلے کے لئے صفر [ نامی مقام ] پر اترے تو میں [ اکیلا ] اپنے گھوڑے پر بیٹھ کر جابیہ [ نامی شہر ] کے دروازے تک پہنچ گیا وہاں میں نے اپنے گھوڑے سے اتر کر اس کے جسم کو ملا پھر اس پر زین کسی اور اپنا نیزہ ہاتھ میں سنبھال لیا [ یعنی حملے کے لئے تیار ہو گیا ] اسی اثناء میں میں نے جابیہ کا دروازہ کھلنے کی آواز سنی میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ قضائے حاجت کے لئے نکلے ہیں۔ میں نے کہا ایسے لوگوں پر حملہ کرنا میرے لئے عار کی بات ہے اس کے بعد ایک بڑا لشکر نگلا میں نے اسے اگے جانے دیا۔ جب وہ آگے بڑھ گیا تو میں نے پیچھے سے ان پر حملہ کر دیا اور نعرہ تکبیر بلند کیا انہوں نے سمجھا کہ ان کا شہر گھیرے میں آگیا ہے چنانچہ وہ پیچھے لوٹے میں نے [ تاک کر ] ان کے سردار پر حملہ کیا اور نیزہ مار کر اسے گرادیا پھر میں نے آگے بڑھ کر اس کے برذون [یعنی تیز رفتار دیو ہیکل ترکی گھوڑے ] کی لگام میں ہاتھ ڈالا اور اس پر سوار ہو گیا لشکر والوں نے جب مجھے اکیلا دیکھا تو میرے طرف بڑھے میں بھی ان کی طرف موڑا میں نے دیکھا کہ ایک شخص ان میں سے آگے بڑھ چکا ہے میں نے لگام کو زین کے سرے میں پھنسایا اور خود نیزہ لے کر اس پر حملہ آوار ہوا اور اس کو چھید دیا پھر میں برذون کی طرف لوٹا لشکر والے میرے طرف بڑھے میں پھر واپس مڑا اور پہلے کی طرح ایک اور شخص کو نیزے سے ہلاک کر دیا جب انہوں نے میرا یہ طریقہ دیکھا تو واپس لوٹ گئے میں وہاں سے واپس صفر [نام مقام ] میں آگیا ۔ میں نے اپنے خیمے کے پاس آکر ترکی گھوڑے کو باندھا اور اس کی زین اتاری ااور حضرت خالید بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہو کر سارا قصہ سنایا اس وقت ان کے پاس رومیوں کے سب سے بڑے سردار بھی اپنے شہر والوں کے لئے امان مانگنے کے لئے آیا ہوا تھا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اسے فرمایا کیا تمھیں معلوم ہے کہ تمھارا فلاں سردار مارا گیاہے اس نے رومی زبان میں کہا متانون یعنی خدا نہ کرے ۔ اچانگ حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ وہی ترکی گھوڑا لیکر آگئے ۔ رومی سردار نے جب گھوڑا دیکھا تو پہچان گیا اور حضرت واثلہ سے کہنے لگا کیااس کی زین مجھے بیچو گے۔ حضرت واثلہ نے فرمایا ہاں۔ اس نے کہا میں اس کے دس ہزار دینے کو تیار لیے تیار ہوں ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا کہ بیچ دو۔ میں نے کہا امیر صاحب آپ بیجئے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے وہ زین بیچ دی اور اس رومی کا سارا سامان مجھے عنایت فرمایا دیا۔ (ابن عساکر )
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment