Friday, November 9, 2012

مال میں برکت

                           مال میں برکت
گزشتہ دور کے صحابہ و اہل بیعت رضوان اللہ علیہم اجمعین‘ اولیا کرام رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی میں برکت تھی جہاں اعمال صالح تھے وہاں ان کے مال میں بھی برکت تھی۔ مفلس‘ غریب‘ نادار‘ تنگدست اور قرضوں میں ڈوبے ہوؤں کیلئے ایک انمول تحفہ اور خزانہ پیش کر رہی ہوں۔

ایک کپڑے کی تھیلی بنوالیں جیسے پہلے زمانے میں یا آج کل لوگ پان وغیرہ کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
آپ تمام رقم تھوڑی ہو یا زیادہ اسی میں رکھیں اور نکالتے اور ڈالتے وقت تسمیہ کیساتھ ایک بار سورۃ کوثر پڑھ لیں کبھی برکت اور رقم ختم نہیں ہوگی۔
روزانہ 129 دفعہ صبح و شام سورۃ کوثر مع تسمیہ پڑھ کر اسی تھیلی پر دم کردیں‘ یہ عمل دن میں ایک بار بھی کرسکتے ہیں لیکن اگر دو بار کریں تونفع زیادہ ہوگا ۔ جتنا گُڑ اتنا میٹھا۔ اگر تمام عمر کا معمول بنالیں تو پھر کمال دیکھیں۔ وضو بے وضو ہر حالت میں کرسکتے ہیں لیکن باوضو برکت زیادہ ہوگی۔

امیر المؤمنین ‌امام و‌خلیفۂ ثانی سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی کرامات

حضر بسربن ارطاۃ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آیا ہے کہ رومیوں کے ساتھ جہاد کے دوران ان کے لشکر کے ساقہ [ پچھلے حصے ] کو برابر نقصان پہنچتا رہا، حضرت بسر ان کے لیے کمین گاہیں بناتے مگر رومی چھپ کر ان پر حملہ کر دیتے ، حضرت بسر رضی اللہ عنہ نے یہ صورت حال دیکھ کر سو آدمی اپنے ساتھ لئے اور لشکر سے پیچھے ایک پہاڑی کے دامن میں چھپ گئے وہاں سے انہوں نے ایک جگہ تیس ترکی گھوڑےبندھے ہوئے تھے اور ان کے ایک جانب گرجاگھر تھا اس گرجے میں گھوڑوں کے سوار تھے۔ حضرت بسر نے اپنا گھوڑا قریب ہی باندھا اور خود اکیلے گرجا گھر میں داخل ہو ئے اور اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ رومی دروازے کے بند ہونے سے حیران ہوئے اور اپنے نیزوں کی طرف بھاگے مگر نیزے اٹھانے سے پہلے ہی ان میں سے تین زمین پر تڑپ رہے تھے ادھر حضرت بسر رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے جب انہیں نہ پایا تو ان کی تلاش میں نکلے۔ گرجے کے پاس انہوں نے آپ کے گھوڑے کو پہچان لیا اور انہیں گرچے کے اندر سے شور بھی سنائی دیا تو انہوں نے اس میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر دروازہ بند تھا چنانچہ انہوں نے چھت کو توڑ کر جگہ بنائی اور اندر گھس گئے انہوں نے دیکھا کہ حضرت بسر رضی اللہ عنہ اپنے بائیں ہاتھ سے اپنی آنتیں سنبھالی ہوئی ہیں اور دائیں ہاتھ میں تلوار لے کر لڑ رہے ہیں جب ان کے ساتھی گرجا گھر پر قابض ہوگئے تو حضرت بسر بے ہوش ہو کر گرپڑے اس لڑائی میں کئی رومی مارے گئے اور کئی قید ہوئے ان قیدیوں نے حضرت بسر رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ ، انہوں نے کہا یہ بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ ہیں کہنے لگے کہ اللہ کی قسم کسی ماں نے اس جیسا نہیں جنا ہوگا۔ ان کے ساتھیوں نے ان کی آنتوں کو ان کے پیٹ میں واپس رکھ دیا اور اپنے عمامے پھاڑ کر ان کی پٹی کی اور انہیں اٹھا کر لے آئے علاج کے بعد اللہ تعالی نے انہیں تندرستی عطاع فرما دی ( رواہ الحافظ ابوالحاج المزی )

امیر المؤمنین ‌امام و‌خلیفۂ ثانی سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی کرامات

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ رومیوں کے مقابلے کے لئے صفر [ نامی مقام ] پر اترے تو میں [ اکیلا ] اپنے گھوڑے پر بیٹھ کر جابیہ [ نامی شہر ] کے دروازے تک پہنچ گیا وہاں میں نے اپنے گھوڑے سے اتر کر اس کے جسم کو ملا پھر اس پر زین کسی اور اپنا نیزہ ہاتھ میں سنبھال لیا [ یعنی حملے کے لئے تیار ہو گیا ] اسی اثناء میں میں نے جابیہ کا دروازہ کھلنے کی آواز سنی میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ قضائے حاجت کے لئے نکلے ہیں۔ میں نے کہا ایسے لوگوں پر حملہ کرنا میرے لئے عار کی بات ہے اس کے بعد ایک بڑا لشکر نگلا میں نے اسے اگے جانے دیا۔ جب وہ آگے بڑھ گیا تو میں نے پیچھے سے ان پر حملہ کر دیا اور نعرہ تکبیر بلند کیا انہوں نے سمجھا کہ ان کا شہر گھیرے میں آگیا ہے چنانچہ وہ پیچھے لوٹے میں نے [ تاک کر ] ان کے سردار پر حملہ کیا اور نیزہ مار کر اسے گرادیا پھر میں نے آگے بڑھ کر اس کے برذون [یعنی تیز رفتار دیو ہیکل ترکی گھوڑے ] کی لگام میں ہاتھ ڈالا اور اس پر سوار ہو گیا لشکر والوں نے جب مجھے اکیلا دیکھا تو میرے طرف بڑھے میں بھی ان کی طرف موڑا میں نے دیکھا کہ ایک شخص ان میں سے آگے بڑھ چکا ہے میں نے لگام کو زین کے سرے میں پھنسایا اور خود نیزہ لے کر اس پر حملہ آوار ہوا اور اس کو چھید دیا پھر میں برذون کی طرف لوٹا لشکر والے میرے طرف بڑھے میں پھر واپس مڑا اور پہلے کی طرح ایک اور شخص کو نیزے سے ہلاک کر دیا جب انہوں نے میرا یہ طریقہ دیکھا تو واپس لوٹ گئے میں وہاں سے واپس صفر [نام مقام ] میں آگیا ۔ میں نے اپنے خیمے کے پاس آکر ترکی گھوڑے کو باندھا اور اس کی زین اتاری ااور حضرت خالید بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہو کر سارا قصہ سنایا اس وقت ان کے پاس رومیوں کے سب سے بڑے سردار بھی اپنے شہر والوں کے لئے امان مانگنے کے لئے آیا ہوا تھا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اسے فرمایا کیا تمھیں معلوم ہے کہ تمھارا فلاں سردار مارا گیاہے اس نے رومی زبان میں کہا متانون یعنی خدا نہ کرے ۔ اچانگ حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ وہی ترکی گھوڑا لیکر آگئے ۔ رومی سردار نے جب گھوڑا دیکھا تو پہچان گیا اور حضرت واثلہ سے کہنے لگا کیااس کی زین مجھے بیچو گے۔ حضرت واثلہ نے فرمایا ہاں۔ اس نے کہا میں اس کے دس ہزار دینے کو تیار لیے تیار ہوں ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا کہ بیچ دو۔ میں نے کہا امیر صاحب آپ بیجئے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے وہ زین بیچ دی اور اس رومی کا سارا سامان مجھے عنایت فرمایا دیا۔ (ابن عساکر )