مال میں برکت
گزشتہ دور کے صحابہ و اہل بیعت رضوان اللہ علیہم اجمعین‘ اولیا کرام رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی میں برکت تھی جہاں اعمال صالح تھے وہاں ان کے مال میں بھی برکت تھی۔ مفلس‘ غریب‘ نادار‘ تنگدست اور قرضوں میں ڈوبے ہوؤں کیلئے ایک انمول تحفہ اور خزانہ پیش کر رہی ہوں۔
ایک کپڑے کی تھیلی بنوالیں جیسے پہلے زمانے میں یا آج کل لوگ پان وغیرہ کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
آپ تمام رقم تھوڑی ہو یا زیادہ اسی میں رکھیں اور نکالتے اور ڈالتے وقت تسمیہ کیساتھ ایک بار سورۃ کوثر پڑھ لیں کبھی برکت اور رقم ختم نہیں ہوگی۔
روزانہ 129 دفعہ صبح و شام سورۃ کوثر مع تسمیہ پڑھ کر اسی تھیلی پر دم کردیں‘ یہ عمل دن میں ایک بار بھی کرسکتے ہیں لیکن اگر دو بار کریں تونفع زیادہ ہوگا ۔ جتنا گُڑ اتنا میٹھا۔ اگر تمام عمر کا معمول بنالیں تو پھر کمال دیکھیں۔ وضو بے وضو ہر حالت میں کرسکتے ہیں لیکن باوضو برکت زیادہ ہوگی۔
unique world
Friday, November 9, 2012
امیر المؤمنین امام وخلیفۂ ثانی سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی کرامات
حضر بسربن ارطاۃ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آیا ہے کہ رومیوں کے ساتھ جہاد کے دوران ان کے لشکر کے ساقہ [ پچھلے حصے ] کو برابر نقصان پہنچتا رہا، حضرت بسر ان کے لیے کمین گاہیں بناتے مگر رومی چھپ کر ان پر حملہ کر دیتے ، حضرت بسر رضی اللہ عنہ نے یہ صورت حال دیکھ کر سو آدمی اپنے ساتھ لئے اور لشکر سے پیچھے ایک پہاڑی کے دامن میں چھپ گئے وہاں سے انہوں نے ایک جگہ تیس ترکی گھوڑےبندھے ہوئے تھے اور ان کے ایک جانب گرجاگھر تھا اس گرجے میں گھوڑوں کے سوار تھے۔ حضرت بسر نے اپنا گھوڑا قریب ہی باندھا اور خود اکیلے گرجا گھر میں داخل ہو ئے اور اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ رومی دروازے کے بند ہونے سے حیران ہوئے اور اپنے نیزوں کی طرف بھاگے مگر نیزے اٹھانے سے پہلے ہی ان میں سے تین زمین پر تڑپ رہے تھے ادھر حضرت بسر رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے جب انہیں نہ پایا تو ان کی تلاش میں نکلے۔ گرجے کے پاس انہوں نے آپ کے گھوڑے کو پہچان لیا اور انہیں گرچے کے اندر سے شور بھی سنائی دیا تو انہوں نے اس میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر دروازہ بند تھا چنانچہ انہوں نے چھت کو توڑ کر جگہ بنائی اور اندر گھس گئے انہوں نے دیکھا کہ حضرت بسر رضی اللہ عنہ اپنے بائیں ہاتھ سے اپنی آنتیں سنبھالی ہوئی ہیں اور دائیں ہاتھ میں تلوار لے کر لڑ رہے ہیں جب ان کے ساتھی گرجا گھر پر قابض ہوگئے تو حضرت بسر بے ہوش ہو کر گرپڑے اس لڑائی میں کئی رومی مارے گئے اور کئی قید ہوئے ان قیدیوں نے حضرت بسر رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ ، انہوں نے کہا یہ بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ ہیں کہنے لگے کہ اللہ کی قسم کسی ماں نے اس جیسا نہیں جنا ہوگا۔ ان کے ساتھیوں نے ان کی آنتوں کو ان کے پیٹ میں واپس رکھ دیا اور اپنے عمامے پھاڑ کر ان کی پٹی کی اور انہیں اٹھا کر لے آئے علاج کے بعد اللہ تعالی نے انہیں تندرستی عطاع فرما دی ( رواہ الحافظ ابوالحاج المزی )
امیر المؤمنین امام وخلیفۂ ثانی سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی کرامات
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ رومیوں کے مقابلے کے لئے صفر [ نامی مقام ] پر اترے تو میں [ اکیلا ] اپنے گھوڑے پر بیٹھ کر جابیہ [ نامی شہر ] کے دروازے تک پہنچ گیا وہاں میں نے اپنے گھوڑے سے اتر کر اس کے جسم کو ملا پھر اس پر زین کسی اور اپنا نیزہ ہاتھ میں سنبھال لیا [ یعنی حملے کے لئے تیار ہو گیا ] اسی اثناء میں میں نے جابیہ کا دروازہ کھلنے کی آواز سنی میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ قضائے حاجت کے لئے نکلے ہیں۔ میں نے کہا ایسے لوگوں پر حملہ کرنا میرے لئے عار کی بات ہے اس کے بعد ایک بڑا لشکر نگلا میں نے اسے اگے جانے دیا۔ جب وہ آگے بڑھ گیا تو میں نے پیچھے سے ان پر حملہ کر دیا اور نعرہ تکبیر بلند کیا انہوں نے سمجھا کہ ان کا شہر گھیرے میں آگیا ہے چنانچہ وہ پیچھے لوٹے میں نے [ تاک کر ] ان کے سردار پر حملہ کیا اور نیزہ مار کر اسے گرادیا پھر میں نے آگے بڑھ کر اس کے برذون [یعنی تیز رفتار دیو ہیکل ترکی گھوڑے ] کی لگام میں ہاتھ ڈالا اور اس پر سوار ہو گیا لشکر والوں نے جب مجھے اکیلا دیکھا تو میرے طرف بڑھے میں بھی ان کی طرف موڑا میں نے دیکھا کہ ایک شخص ان میں سے آگے بڑھ چکا ہے میں نے لگام کو زین کے سرے میں پھنسایا اور خود نیزہ لے کر اس پر حملہ آوار ہوا اور اس کو چھید دیا پھر میں برذون کی طرف لوٹا لشکر والے میرے طرف بڑھے میں پھر واپس مڑا اور پہلے کی طرح ایک اور شخص کو نیزے سے ہلاک کر دیا جب انہوں نے میرا یہ طریقہ دیکھا تو واپس لوٹ گئے میں وہاں سے واپس صفر [نام مقام ] میں آگیا ۔ میں نے اپنے خیمے کے پاس آکر ترکی گھوڑے کو باندھا اور اس کی زین اتاری ااور حضرت خالید بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہو کر سارا قصہ سنایا اس وقت ان کے پاس رومیوں کے سب سے بڑے سردار بھی اپنے شہر والوں کے لئے امان مانگنے کے لئے آیا ہوا تھا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اسے فرمایا کیا تمھیں معلوم ہے کہ تمھارا فلاں سردار مارا گیاہے اس نے رومی زبان میں کہا متانون یعنی خدا نہ کرے ۔ اچانگ حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ وہی ترکی گھوڑا لیکر آگئے ۔ رومی سردار نے جب گھوڑا دیکھا تو پہچان گیا اور حضرت واثلہ سے کہنے لگا کیااس کی زین مجھے بیچو گے۔ حضرت واثلہ نے فرمایا ہاں۔ اس نے کہا میں اس کے دس ہزار دینے کو تیار لیے تیار ہوں ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا کہ بیچ دو۔ میں نے کہا امیر صاحب آپ بیجئے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے وہ زین بیچ دی اور اس رومی کا سارا سامان مجھے عنایت فرمایا دیا۔ (ابن عساکر )
Friday, October 19, 2012
مسلمان اور سائنس پارٹ ۲
دورِ حاضر کے
مسلمانوں کا قرآن کریم سے جو رشتہ کمزور ہوگیا تو اس کو ان اشعار میں آسانی سے
سمجھا جاسکتا
ہے:
درسِ قرآن نہ اگر
ہم نے بھلایا ہوتا یہ زمانہ نہ زمانے نہ دکھایا
ہوتا
ہم نے قرآن کو
مسلک جو بنایا ہوتا قوم کے خفیہ نصیبوں کو جگایا
ہوتا
چاٹ لیں تم نے کتب
فلسفہ و منطق کی ہاتھ بھولے سے بھی قرآں کو لگایا
ہوتا
لائی ہر ڈاک، تِرے
واسطے لندن سے کتاب گھر سے ہمسائے کے قرآن بھی منگایا
ہوتا
وہ جو انجیل یہاں
تجھ کو سنانے آئے تُونے قرآن وہاں جاکے سنایا
ہوتا
قوم کے درد کا
درماں ہے تو ہے قرآن مفلسی میں کوئی ساماں ہے تو ہے
قرآن
قارئین کرام! راقم نے یہاں چند قرآنی آیات عنوانات کے تحت درج کی ہیں تاکہ ہم اس
بات کا احساس کرلیں کہ ہماری یہ کتابِ مبین ہمیں ہر علم کےبارے میں ہدایت فراہم
کررہی ہے۔ آیئے چند آیات اور ان کا ترجمہ ملاحظہ کریں۔
القرآن:
كِتَابٌ
أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آَيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو
الْأَلْبَابِ
(ص: 29)
یہ
ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور
عقلمند نصیحت مانیں۔
We have sent down a Book to
you that is blessed, so prudent men may ponder over its verses and therebye be
reminded.
القرآن:
إِنَّ فِي
خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآَيَاتٍ
لِأُولِي الْأَلْبَابِ O الَّذِينَ يَذْكُرُونَ
اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ
السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ
فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
O (اٰلِ عمران: 190-191)
بے شک
آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے
لئے۔ جو لوگ اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور
زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں، اے رب ہمارے تُونے یہ بیکار نہ
بنایا۔
In the Creation of Heavens and
Earth and the atternation between night and day light, there are signs for
prudent persons who remember Allah while standing, sitting and lying on their
sides, and mediate on the creation of Heaven and Earth (by saying) Our Lord, You
have not created this in vain. Glory be to You, shield us from tormont of
fire.
القرآن:
وَعِنْدَهُ
مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ
وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي
ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ
مُبِينٍ
(الانعام: 59)
اور
اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی، انہیں وہی جانتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ خشکی اور
تری میں ہے اور جو پتا گرتا ہے وہ اسے جانتا ہے اور کوئی دانہ نہیں زمین کی
اندھیریوں میں اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں لکھا نہ ہو۔
He holds the keys to the
Unseen, Only He knows them! He known whatever exists on the land and at sea; No
leaf drops down unless He knows it, And there is no grain in the darkness of the
Earth, and nor anything wet and nor dry which is not written in luminous
Books.
پیدائشِ کائنات
القرآن:
الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ
وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى
الْعَرْشِ
(الفرقان: 95)
جس نے
آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استویٰ فرمایا
(جیسا اس کی شان کے لائق ہے)
He is the one who created
Heaven and the Earth as wel as whatever lies in between them, in six
days.
علمِ ارضیات
القرآن:
وَالْأَرْضَ
بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا O
أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا
وَمَرْعَاهَا O وَالْجِبَالَ
أَرْسَاهَا O (النزعت:30-32)
اور
اس کے بعد زمین پھیلائی۔ اس میں سے اس کا پانی اور پارہ نکالا۔ اور پہاڑوں کو
لبھایا۔
And after that He spread out
the Earth. He brought forth there from its water and its pasture. And set firmly
the mountains.
علمِ نباتات
القرآن:
وَجَعَلْنَا
سِرَاجًا وَهَّاجًا O وَأَنْزَلْنَا مِنَ
الْمُعْصِرَاتِ مَاءً ثَجَّاجًا O
لِنُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَبَاتًاO
(النباء:13-15)
اور
ان میں ایک نہایت چمکتا چراغ رکھا اور پھر بدلیوں سے زور کا پانی اتارا کہ اس سے
پیدا فرمائیں اناج اور سبزہ۔
And set a bleezing lamp
(Source of Energy and light) there. And send down torrentail rains through
(heavy and dark) clouds. So We may (crops out) produce grain and
vegitation.
القرآن:
وَاللَّهُ
أَنْبَتَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا O
ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا
وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا O (نوح:17-18)
اور اللہ نے نہیں
سبزے کی طرح زمین سے اگایا۔ پھر تمہیں اس میں لے جائے گا اور دوبارہ نکالے گا۔
Allah makes you grow out of
the Earth like Plants. Later He will return you to it and bring you forth once
more.
علمِ حیوانات
القرآن:
وَإِنَّ
لَكُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً نُسْقِيكُمْ مِمَّا فِي بُطُونِهِ مِنْ بَيْنِ
فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَائِغًا
لِلشَّارِبِينَ
(النحل:
66)
اور
بے شک تمہارے لئے چوپایوں میں نگاہ حاصل ہونے کی جگہ ہے۔ ہم تمہیں پلاتے اس چیز میں
سے جو ان کے پیٹ میں ہے گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص دودھ گلے سے سہل اترتا
پینے والوں کے لئے۔
You have a lesson livestock
(Cattle) [Have you think over it] How we let you drinks of milk that comes from
(extracted or sringed from) bellies in between the cud (dung) and blood pure
refreshing milk easy to swallow for those whodrink it.
چاند سورج کی حرکات
القرآن:
وَسَخَّرَ
الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى ط۔۔۔ (الرعد:2، الزمر: 5)
وَقَدَّرَ مَنَازِلَ (یونس:5)
سورج
اور چاند کو مسخر کیا، ہر ایک، ایک پڑائے ہوئے وعدے تک چلتا
ہے۔
اور
اس کی کے لئے منزلیں ٹھہرائیں۔
Made the moon and sun
sbservient. Each one runs (move in an orbit) to a term stated [completing their
movements or rotation in their orbits in fixed time daily, yearly].
سکونتِ آسمان و زمین
القرآن:
إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ
السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا وَلَئِنْ زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا
مِنْ أَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ ۔۔۔
(فاطر:41)
بے شک
اللہ روکے ہوئے آسمانوں اور زمین کو کہ جنبش نہ کریں اور اگر وہ ہٹ جائیں تو انہیں
کون روکے اللہ کے سوا۔
Allah has definitely withhold
the heavens and the Earth, Lest they move. If either should slip or move out of
place (static position) no one else would hold on to them beside him
Allah.
پیدائشِ انسان
القرآن:
فَإِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ
تُرَابٍ
(الحج:5) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ Sticky cloy, ringing cloy
القرآن:
خلقکم من طین (الانعام:2) تمہیں
(باریک) مٹی سے پیدا کیا۔ dust/soil, mud clay
sond.
القرآن:
خلقنھم من طین الاذب (الصفت:11)
چپکتی مٹی
سے بنایا۔ We first created you from black smelling mud,
extract of clay
Friday, October 5, 2012
مسلمان اور سائنس پارٹ ۱
قارئین
کرام! آیئے تاریخ کے صفحات کو الٹتے ہیں، دیکھئے کیا شاندار ماضی ہے ہمارے مسلمان
سائنسدانوں کا۔۔۔
مسلمان سائنسدانوں
کی خدمات کا انتہائی سرسری جائزہ:
1۔
ابو اسحاق ابراہیم بن جندب (م 157ھ/ 776ء)
دور
بین کا موجد
2۔
جابر بن حیان (م 198ھ/ 817ء)
علمِ
کیمیا کا بانی اور کئی مرکبات کا موجد
3۔
عبد المالک اصمعی (م 213ھ/ 831ء)
علمِ حیوانات، نباتیات کی ابتدائی 5
کتابوں کا مصنف
دنیا کی پہلی observatory کا صدر اور فلکیاتی جدول کا بانی/
موجد
5۔
محمد بن موسیٰ خوارزمی (م 232ھ/ 850ء)
الجبرا کا موجد اور الجبرا و حساب کی کتابوں کامصنف
6۔
احمد بن موسیٰ شاکر (م 240ھ/ 850ء)
پہلا Mechanical Eng. اور اس موضوع پر پہلی کتاب کا
مصنف
7۔
ابو عباس احمد محمد کثیر (م 243ھ/ 861ء)
زمین کا صحیح محیط Circumferences معلوم کرنے والا پہلا
سائنسدان
8۔
ابو یوسف یعقوب بن اسحاق کندی (م 254ھ/ 873ء)
پہلا
مسلم فلسفی
9۔
محمد ذکریا رازی (م 308ھ…. 932ء)
طب کا
امام، میزانِ طبعی اور الکحل کا خالق
10۔
حکیم ابو نصر محمد بن فارابی (م 338ھ/ 961ء)
علمِ
نفسیات کا عظیم ماہر
11۔
ابو علی حسن ابن الہیثم (م 410ھ/ 1021ء)
کیمرہ
کا موجد، آنکھ کی پتلی کا محقق، انعطاف نور کے نظریہ کا
ماہر
12۔
احمد بن محمد علی مکویہ (م 421ھ/ 1032ء)
نباتیات، حیوانات کا ماہر، دماغی ارتقاءکی دریافت کرنے
والا
13۔
شیخ حسین عبد اللہ بن علی سینا (م 428ھ/ 1039ء)
علمِ
طبیعیات، علم الامراض، الادویہ کے فنون کا موجد، سب سے زیادہ کتابوں کا
مصنف
14۔
ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی (م 439ھ/ 1049ء)
پہلا
جغرافیہ داں، ماہر آثارِ قدیمہ و ارضیات، دھاتوں کی کثافت کا موجد، برصغیر کا پہلا
مورخ
15۔
امام محمد غزالی (م 505ھ/ 1111ء)
جدید
فلسفہ اخلاق کا موجد، نفسیات اور فلسفہ کا عظیم محقق
16۔
امام احمد رضا خاں بریلوی (م 1340ھ/ 1921ء)
تمام ہی تمام
دنیاوی علوم و فنون کا ماہر، خاص کر ہیئت، حساب، ٹگنومیٹری، فلسفہ، ارضیات، فلکیات،
اقتصادیات، معاشیات، عمرانیات، سیاسیات وغیرہا۔
ہم کیا
تہے اور کیا ہو گےء
Friday, September 28, 2012
Interesting Facts about Islam
Most Influential Person
The most influential person in history is Prophet Muhammad ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ).Most Common Name
"Muhammad" is the most common name in the world.
ASahaban rzi allahPromised Paradise
The 10 ASahaban who were promised Paradise during their lifetime were Abu Bakr Siddiq, Umar Bin Khattab, Uthman Bin Affan, Ali Bin Abi Talib, Talha Bin Ubaidullah, Said Bin Zaid, Abu Ubaidah Bin Jarrah, Zubair bin Awwam, Sa'ad Bin Abi Waqqas and Abdur Rahman Bin Auf RadiAllahu 'Anhum Ajma'in (R.A).
First HafizThe first Hafiz (one who memorizes the Qur'an) of the Holy Qur'an after Muhammad (S.A.W) was Uthman Bin Affan (R.A).
The Quran will Remain If all Qurans in the world today were destroyed, the original Arabic would still exist. The reason is millions of Muslims, have memorized the whole of the Quran letter for letter from beginning to end. In addition, chapters from the Quran are precisely recited from memory by every Muslim in each of the five daily prayers.
Islam Meaning
Islam literally means "peace (through the submission to God)".
No Compulsion
Islam teaches that there is no compulsion in religion
Subscribe to:
Comments (Atom)




