دورِ حاضر کے
مسلمانوں کا قرآن کریم سے جو رشتہ کمزور ہوگیا تو اس کو ان اشعار میں آسانی سے
سمجھا جاسکتا
ہے:
درسِ قرآن نہ اگر
ہم نے بھلایا ہوتا یہ زمانہ نہ زمانے نہ دکھایا
ہوتا
ہم نے قرآن کو
مسلک جو بنایا ہوتا قوم کے خفیہ نصیبوں کو جگایا
ہوتا
چاٹ لیں تم نے کتب
فلسفہ و منطق کی ہاتھ بھولے سے بھی قرآں کو لگایا
ہوتا
لائی ہر ڈاک، تِرے
واسطے لندن سے کتاب گھر سے ہمسائے کے قرآن بھی منگایا
ہوتا
وہ جو انجیل یہاں
تجھ کو سنانے آئے تُونے قرآن وہاں جاکے سنایا
ہوتا
قوم کے درد کا
درماں ہے تو ہے قرآن مفلسی میں کوئی ساماں ہے تو ہے
قرآن
قارئین کرام! راقم نے یہاں چند قرآنی آیات عنوانات کے تحت درج کی ہیں تاکہ ہم اس
بات کا احساس کرلیں کہ ہماری یہ کتابِ مبین ہمیں ہر علم کےبارے میں ہدایت فراہم
کررہی ہے۔ آیئے چند آیات اور ان کا ترجمہ ملاحظہ کریں۔
القرآن:
كِتَابٌ
أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آَيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو
الْأَلْبَابِ
(ص: 29)
یہ
ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور
عقلمند نصیحت مانیں۔
We have sent down a Book to
you that is blessed, so prudent men may ponder over its verses and therebye be
reminded.
القرآن:
إِنَّ فِي
خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآَيَاتٍ
لِأُولِي الْأَلْبَابِ O الَّذِينَ يَذْكُرُونَ
اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ
السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ
فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
O (اٰلِ عمران: 190-191)
بے شک
آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے
لئے۔ جو لوگ اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور
زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں، اے رب ہمارے تُونے یہ بیکار نہ
بنایا۔
In the Creation of Heavens and
Earth and the atternation between night and day light, there are signs for
prudent persons who remember Allah while standing, sitting and lying on their
sides, and mediate on the creation of Heaven and Earth (by saying) Our Lord, You
have not created this in vain. Glory be to You, shield us from tormont of
fire.
القرآن:
وَعِنْدَهُ
مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ
وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي
ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ
مُبِينٍ
(الانعام: 59)
اور
اسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی، انہیں وہی جانتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ خشکی اور
تری میں ہے اور جو پتا گرتا ہے وہ اسے جانتا ہے اور کوئی دانہ نہیں زمین کی
اندھیریوں میں اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں لکھا نہ ہو۔
He holds the keys to the
Unseen, Only He knows them! He known whatever exists on the land and at sea; No
leaf drops down unless He knows it, And there is no grain in the darkness of the
Earth, and nor anything wet and nor dry which is not written in luminous
Books.
پیدائشِ کائنات
القرآن:
الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ
وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى
الْعَرْشِ
(الفرقان: 95)
جس نے
آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنائے پھر عرش پر استویٰ فرمایا
(جیسا اس کی شان کے لائق ہے)
He is the one who created
Heaven and the Earth as wel as whatever lies in between them, in six
days.
علمِ ارضیات
القرآن:
وَالْأَرْضَ
بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا O
أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا
وَمَرْعَاهَا O وَالْجِبَالَ
أَرْسَاهَا O (النزعت:30-32)
اور
اس کے بعد زمین پھیلائی۔ اس میں سے اس کا پانی اور پارہ نکالا۔ اور پہاڑوں کو
لبھایا۔
And after that He spread out
the Earth. He brought forth there from its water and its pasture. And set firmly
the mountains.
علمِ نباتات
القرآن:
وَجَعَلْنَا
سِرَاجًا وَهَّاجًا O وَأَنْزَلْنَا مِنَ
الْمُعْصِرَاتِ مَاءً ثَجَّاجًا O
لِنُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَبَاتًاO
(النباء:13-15)
اور
ان میں ایک نہایت چمکتا چراغ رکھا اور پھر بدلیوں سے زور کا پانی اتارا کہ اس سے
پیدا فرمائیں اناج اور سبزہ۔
And set a bleezing lamp
(Source of Energy and light) there. And send down torrentail rains through
(heavy and dark) clouds. So We may (crops out) produce grain and
vegitation.
القرآن:
وَاللَّهُ
أَنْبَتَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا O
ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا
وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا O (نوح:17-18)
اور اللہ نے نہیں
سبزے کی طرح زمین سے اگایا۔ پھر تمہیں اس میں لے جائے گا اور دوبارہ نکالے گا۔
Allah makes you grow out of
the Earth like Plants. Later He will return you to it and bring you forth once
more.
علمِ حیوانات
القرآن:
وَإِنَّ
لَكُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً نُسْقِيكُمْ مِمَّا فِي بُطُونِهِ مِنْ بَيْنِ
فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَائِغًا
لِلشَّارِبِينَ
(النحل:
66)
اور
بے شک تمہارے لئے چوپایوں میں نگاہ حاصل ہونے کی جگہ ہے۔ ہم تمہیں پلاتے اس چیز میں
سے جو ان کے پیٹ میں ہے گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص دودھ گلے سے سہل اترتا
پینے والوں کے لئے۔
You have a lesson livestock
(Cattle) [Have you think over it] How we let you drinks of milk that comes from
(extracted or sringed from) bellies in between the cud (dung) and blood pure
refreshing milk easy to swallow for those whodrink it.
چاند سورج کی حرکات
القرآن:
وَسَخَّرَ
الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى ط۔۔۔ (الرعد:2، الزمر: 5)
وَقَدَّرَ مَنَازِلَ (یونس:5)
سورج
اور چاند کو مسخر کیا، ہر ایک، ایک پڑائے ہوئے وعدے تک چلتا
ہے۔
اور
اس کی کے لئے منزلیں ٹھہرائیں۔
Made the moon and sun
sbservient. Each one runs (move in an orbit) to a term stated [completing their
movements or rotation in their orbits in fixed time daily, yearly].
سکونتِ آسمان و زمین
القرآن:
إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ
السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا وَلَئِنْ زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا
مِنْ أَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ ۔۔۔
(فاطر:41)
بے شک
اللہ روکے ہوئے آسمانوں اور زمین کو کہ جنبش نہ کریں اور اگر وہ ہٹ جائیں تو انہیں
کون روکے اللہ کے سوا۔
Allah has definitely withhold
the heavens and the Earth, Lest they move. If either should slip or move out of
place (static position) no one else would hold on to them beside him
Allah.
پیدائشِ انسان
القرآن:
فَإِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ
تُرَابٍ
(الحج:5) ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ Sticky cloy, ringing cloy
القرآن:
خلقکم من طین (الانعام:2) تمہیں
(باریک) مٹی سے پیدا کیا۔ dust/soil, mud clay
sond.
القرآن:
خلقنھم من طین الاذب (الصفت:11)
چپکتی مٹی
سے بنایا۔ We first created you from black smelling mud,
extract of clay
